غلام مزمل عطاؔ اشرفی کی دو نئی غزلیں | انتظار، محبت اور زندگی کے احساسات

غلام مزمل عطاؔ اشرفی کی منتخب غزلیں

محبت، وفا، زندگی اور انسانی جذبات کی ترجمانی
پیشِ نظر غلام مزمل عطاؔ اشرفی کی چار منتخب غزلیں ہیں۔ ان غزلوں میں محبت، انتظار، ہجر، وفا، امید، تنہائی، زندگی کے نشیب و فراز اور انسانی جذبات کو مختلف شعری پیکروں میں پیش کیا گیا ہے۔ اشعار میں داخلی کیفیات اور زندگی کے تجربات کو سادہ، رواں اور مؤثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
غزل اوّل

تیرا ہی انتظار ہے ہر بار زندگی
کیسے کٹے گی تیرے بنا یار زندگی

وہ سامنے بھی تھا تو میسر نہ ہو سکا
کیسی تھی میرے عشق کی دیوار، زندگی

وہ چھوڑ کر گیا تو یہ احساس ہو گیا
سانسوں کا سلسلہ بھی ہے بیکار، زندگی

ملنے کی آرزو بھی عجب امتحان ہے
ہر روز ایک تازہ ہے آزار، زندگی

تجھ سے ملے بغیر نہ منزل ملی کبھی
رہ رہ کے بن گئی ہے یہ دشوار، زندگی

وہ لوٹ آئے کاش یہی سوچتے رہے
کٹتی رہی اسی میں شبِ تار، زندگی

اس کی گلی سے لوٹ کے آئے تو پھر عطاؔ
دل ہو گیا ہے اور بھی بیمار، زندگی

غلام مزمل عطاؔ اشرفی
سہرسہ، بہار، ہند
غزل دوم

کیوں کر میں یہ کہوں کہ ہے بیکار زندگی
مِثلِ گلاب ہے تو کبھی خار، زندگی

ہم نے قبول کر لیا ہر وار، زندگی
ہنس کر سہے ہیں وقت کے آزار، زندگی

دنیا کی دھوپ چھاؤں نے اتنا سکھا دیا
ہر موڑ پر بدلتے ہیں اطوار، زندگی

اس نے پلٹ کے آج بھی دیکھا نہیں مجھے
کتنی کڑی ہے عشق کی رفتار، زندگی

ہر موڑ پر امید کا جگنو لیے ہوئے
ہم ڈھونڈتے رہے ترا رخسار، زندگی

چاہت کے سب چراغ ہوا کھا کے بجھ گئے
کیسے کروں میں دل کو خبردار، زندگی

اشکوں نے لکھ دیے مرے حالات کو عطاؔ
پڑھتا رہا انہیں مرا غم خوار، زندگی

غلام مزمل عطاؔ اشرفی
سہرسہ، بہار، ہند

0 Comments

Post a Comment

Post a Comment (0)

Previous Post Next Post